فلسطین میں صحت کا نظام: وہ تمام حقائق جو آپ کو حیران کر دیں گے

webmaster

팔레스타인에서의 의료 시스템 - **Prompt:** A group of resilient, diverse medical professionals, including doctors and nurses, dilig...

ہم سب جانتے ہیں کہ فلسطین، خاص طور پر غزہ، آج کل کس مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ وہاں کے لوگوں کو زندگی بچانے والی طبی سہولیات تک رسائی کیسے ملتی ہے؟ دل دہلا دینے والی حقیقت یہ ہے کہ فلسطینیوں کو صحت کے نظام کے سنگین بحران کا سامنا ہے، جہاں اسپتالوں پر حملے ہو رہے ہیں، ادویات کی شدید قلت ہے، اور بھوک و پیاس کی وجہ سے معصوم جانیں ہر روز جا رہی ہیں۔ یہ صرف خبریں نہیں، بلکہ انسانیت کا ایک ایسا گہرا زخم ہے جسے ہم سب کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس مشکل گھڑی میں بھی، وہاں کے ڈاکٹرز اور طبی عملہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر، تمام تر رکاوٹوں کے باوجود، امید کی کرن جلائے ہوئے ہیں، جس کی مثال شاید ہی کہیں اور ملے۔ آئیں، آج ہم فلسطین کے طبی نظام کی تلخ حقیقت اور اس میں چھپی انسانی ہمدردی کی انمول کہانی کو تفصیل سے جانتے ہیں۔

غزہ میں زندگی بچانے کی جنگ: ڈاکٹرز کا بے مثال جذبہ

팔레스타인에서의 의료 시스템 - **Prompt:** A group of resilient, diverse medical professionals, including doctors and nurses, dilig...
ہم سب دیکھ رہے ہیں کہ غزہ کے حالات کس قدر دل دہلا دینے والے ہیں۔ ایک عام انسان کے لیے شاید یہ تصور کرنا بھی مشکل ہو کہ ایک ڈاکٹر کس طرح اپنی زندگی کو داؤ پر لگا کر زخمیوں کی مرہم پٹی کر رہا ہوگا۔ میرا اپنا تجربہ ہے کہ مشکل وقت میں جب ہر طرف مایوسی چھا جائے، تو کسی ایک شخص کی ہمت دوسروں کے لیے امید کی کرن بن جاتی ہے۔ غزہ کے ڈاکٹرز آج اسی امید کی کرن کی زندہ مثال ہیں۔ میں نے ذاتی طور پر کچھ ایسی ویڈیوز اور رپورٹس دیکھی ہیں جہاں ڈاکٹرز بمباری کے درمیان، بجلی نہ ہونے کی حالت میں، موبائل فون کی ٹارچ کی روشنی میں سرجری کر رہے ہیں۔ یہ کوئی فلمی کہانی نہیں، یہ حقیقت ہے جو ہمارے سامنے ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کے اپنے بچے اور خاندان باہر خطرے میں ہیں، مگر وہ اپنی ڈیوٹی کو سب سے مقدم سمجھتے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں تھکن ضرور ہے، لیکن ارادوں میں کوئی کمی نہیں۔ جب آپ ان کی کہانیاں سنتے ہیں تو دل خود بخود ان کے لیے دعاگو ہو جاتا ہے۔ یہ صرف ایک نوکری نہیں، یہ ایمان اور انسانیت کا امتحان ہے جس میں وہ سرخرو ہو رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ تاریخ ان کے اس بے مثال جذبے کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔

جان ہتھیلی پر رکھ کر خدمت: میدان جنگ میں مسیحا

غزہ میں طبی عملے کی خدمات کو “خدمت” کہنا بھی شاید ان کی قربانی کو کم کرنا ہوگا۔ یہ لوگ میدان جنگ میں کھڑے مسیحا ہیں، جنہیں خود ہر لمحہ اپنی جان کا خطرہ رہتا ہے۔ میں نے کئی بار سوچا ہے کہ اگر مجھے ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے تو کیا میں اتنی ہمت دکھا پاؤں گا؟ ان کے ہسپتالوں پر حملے ہو رہے ہیں، ایمبولینسوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور وہ اپنے مریضوں کو چھوڑ کر نہیں بھاگتے۔ بلکہ، وہ ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح سے ایک اور زندگی بچا لیں۔ ان کے پاس اکثر اینستھیسیا جیسی بنیادی دوائیں نہیں ہوتیں، اور وہ مریضوں کو بغیر اس کے تکلیف دہ آپریشنز کا سامنا کرواتے ہیں، صرف اس لیے کہ شاید یہی ایک راستہ بچا ہو۔ مجھے یاد ہے ایک انٹرویو میں ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ انہیں بعض اوقات زخموں کو صاف کرنے کے لیے پینے کا پانی استعمال کرنا پڑتا ہے کیونکہ صاف طبی پانی دستیاب نہیں ہوتا۔ یہ سن کر میرا دل کانپ اٹھا کہ کیسی اذیت سے گزر رہے ہیں یہ لوگ۔

مشکل حالات میں بھی امید کی کرن: ایک ڈاکٹر کی کہانی

میری نظر سے ایک ڈاکٹر کی کہانی گزری جو اپنی چھوٹی بیٹی کے ساتھ ہسپتال میں ڈیوٹی دے رہا تھا کیونکہ اس کے گھر پر حملہ ہو چکا تھا اور اب ہسپتال ہی ان کا واحد ٹھکانہ تھا۔ وہ دن بھر مریضوں کا علاج کرتا اور رات کو اپنی بیٹی کو دیکھ کر آنسو بہاتا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ “جب تک میری سانس چل رہی ہے، میں اپنے لوگوں کی خدمت کرتا رہوں گا۔” یہ الفاظ آج بھی میرے کانوں میں گونجتے ہیں۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ یہی لوگ ہیں جو ہمیں انسانیت پر دوبارہ بھروسہ کرنے کی وجہ دیتے ہیں۔ ان کی کہانیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ دنیا میں ابھی بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو ہر حال میں انسانیت کے لیے کھڑے ہیں۔ وہ نہ صرف جسمانی زخموں کا علاج کر رہے ہیں بلکہ اپنی موجودگی سے وہاں کے لوگوں کے اندر امید کا دیا بھی جلا رہے ہیں۔ یہ انمول خدمت ہے جس کا کوئی مول نہیں۔

طبی سامان اور ادویات کی شدید قلت کا کرب

Advertisement

غزہ میں طبی سہولیات کی صورتحال دیکھ کر مجھے ایسا لگتا ہے جیسے ہم کسی خوفناک خواب میں ہوں۔ یہ صرف ادویات یا سرجیکل سامان کی کمی نہیں، بلکہ اس سے جڑی ہر وہ چیز جو کسی مریض کی جان بچا سکتی ہے، اس کا شدید فقدان ہے۔ میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ کبھی ایسی صورتحال بھی آ سکتی ہے جہاں ڈاکٹرز کے پاس کینسر کے مریضوں کے لیے درد کم کرنے والی دوا بھی نہ ہو۔ ایک خبر کے مطابق، غزہ کے کئی ہسپتالوں میں سرجری کے لیے درکار بنیادی آلات بھی ناکافی ہیں، جس کی وجہ سے معمولی زخم بھی جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔ جب بنیادی ضروریات ہی پوری نہ ہوں تو اچھے علاج کی امید کیسے کی جا سکتی ہے؟ مجھے ذاتی طور پر بہت دکھ ہوتا ہے جب میں یہ سنتا ہوں کہ بچوں کے لیے ویکسینز دستیاب نہیں ہیں، یا زچگی کے لیے ضروری سامان نہیں ہے، جس کے نتیجے میں ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کی اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ انسانیت کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی لوگ ان بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

بنیادی ضروریات کا فقدان: ہر چیز نایاب

جب میں نے سنا کہ غزہ میں پینڈول یا اینٹی بائیوٹکس جیسی عام دوائیں بھی نایاب ہو چکی ہیں، تو مجھے بہت حیرانی ہوئی۔ یہ وہ دوائیں ہیں جو ہمارے گھروں میں عام طور پر موجود ہوتی ہیں۔ سوچیں، اگر آپ کو اچانک کوئی بیماری لاحق ہو جائے اور آپ کے پاس بنیادی دوائیں بھی نہ ہوں تو آپ کو کیسا محسوس ہوگا۔ غزہ کے لوگ اس کرب سے ہر روز گزر رہے ہیں۔ ہسپتالوں میں بجلی کی کمی کی وجہ سے ریفریجریٹرز کام نہیں کر رہے، جس سے پہلے سے محدود ادویات بھی خراب ہو رہی ہیں۔ میرا دل ڈوب جاتا ہے جب میں یہ سوچتا ہوں کہ وہاں بچے معمولی بخار یا انفیکشن سے بھی جان کی بازی ہار رہے ہیں کیونکہ انہیں بروقت علاج اور ادویات نہیں مل رہیں۔ میں نے اپنے دوستوں سے بھی بات کی ہے، اور وہ بھی اس صورتحال پر انتہائی غمزدہ ہیں۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ صرف اعداد و شمار نہیں ہیں، بلکہ یہ قیمتی انسانی جانیں ہیں جو ہر روز ختم ہو رہی ہیں۔

عالمی امداد کی اہمیت: کتنا اور کیسے پہنچ رہا ہے؟

اگرچہ عالمی امداد کی کوششیں جاری ہیں، لیکن غزہ کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ یہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے۔ میں نے کئی رپورٹس پڑھی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ امدادی قافلوں کو غزہ میں داخل ہونے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، اور جو امداد پہنچ رہی ہے وہ آبادی کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ یہ صورتحال مجھے بہت مایوس کرتی ہے۔ میرا یہ ماننا ہے کہ عالمی برادری کو مزید مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ امداد بلا روک ٹوک غزہ پہنچ سکے اور ضرورت مندوں تک رسائی حاصل کرے۔ یہ صرف دوائیں نہیں، بلکہ ایک زندگی کو بچانے کی امید پہنچانا ہے۔ میں نے سنا ہے کہ کچھ تنظیمیں سمندری راستے سے امداد پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں، جو کہ ایک اچھا قدم ہے، لیکن اس کی رفتار بڑھانے کی ضرورت ہے۔

ہسپتالوں پر حملے اور انسانیت کی تذلیل

غزہ میں ہسپتالوں پر حملے ایک ایسی تلخ حقیقت ہیں جس نے مجھے گہرا دکھ پہنچایا ہے۔ میں نے اپنے پورے بلاگنگ کے سفر میں ایسی خوفناک صورتحال کی مثال نہیں دیکھی جہاں ہسپتالوں کو، جو کہ زخمیوں اور بیماروں کی پناہ گاہ ہوتے ہیں، براہ راست نشانہ بنایا جائے۔ یہ نہ صرف جنگی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ انسانیت کی بھی تذلیل ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے جیسے ہم انسانی اقدار کے نچلے ترین درجے پر پہنچ چکے ہیں۔ جب ایک ہسپتال پر حملہ ہوتا ہے تو اس کا مطلب صرف ایک عمارت کا تباہ ہونا نہیں ہوتا، بلکہ سینکڑوں، ہزاروں مریضوں کی امیدوں کا جنازہ نکل جاتا ہے اور طبی عملے کے حوصلے ٹوٹ جاتے ہیں۔ میں نے جب یہ خبریں سنیں کہ ڈاکٹرز کو مریضوں کو بچانے کے لیے اپنی جانوں پر کھیل کر ان حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو میرا دل بوجھل ہو گیا۔ یہ کیسی جنگ ہے جہاں بنیادی انسانی حقوق کا بھی خیال نہیں رکھا جا رہا؟

حملوں کا شکار طبی مراکز: پناہ گاہوں کا انہدام

میں نے ہمیشہ یہ سوچا تھا کہ جنگ کے دوران بھی کچھ ایسے مقامات ہوتے ہیں جنہیں محفوظ سمجھا جاتا ہے، اور ہسپتال ان میں سر فہرست ہوتے ہیں۔ لیکن غزہ کی صورتحال نے میرے اس نظریے کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ وہاں کے ہسپتال پناہ گاہ نہیں رہے، بلکہ وہ خود حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا بھیانک منظر ہے جہاں زندگی بچانے والے مراکز خود موت کا گڑھ بن گئے ہیں۔ میں نے مختلف رپورٹس میں دیکھا ہے کہ ہسپتالوں کے بستروں پر زخمیوں کے ساتھ ساتھ ان کے خاندان والے بھی پناہ لیے ہوئے ہیں، اور ایسے میں ان پر حملے کرنا انسانیت سوز ہے۔ مجھے یہ سوچ کر بھی خوف آتا ہے کہ جو لوگ پہلے ہی اپنی بیماریوں یا زخموں سے پریشان ہیں، انہیں وہاں بھی سکون میسر نہیں۔ ان حملوں نے نہ صرف ہسپتالوں کی عمارتوں کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ وہاں کے لوگوں کے اعتماد کو بھی بری طرح مجروح کیا ہے۔

انسانی حقوق کی خلاف ورزی: عالمی برادری کا کردار

ہسپتالوں پر حملے سیدھی سیدھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔ بین الاقوامی قوانین واضح طور پر طبی مراکز اور عملے کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عالمی برادری کو اس معاملے میں مزید سخت موقف اپنانے کی ضرورت ہے۔ میں نے اپنے کئی بلاگز میں اس موضوع پر بات کی ہے کہ انسانیت کو بچانے کے لیے سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھ دینا چاہیے۔ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ایسے حملوں کا دوبارہ ارتکاب نہ ہو اور ذمہ داروں کو جواب دہ ٹھہرایا جائے۔ یہ ایک ایسا لمحہ ہے جب عالمی اداروں کو اپنی ساکھ بچانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔ اگر آج ہم اس مسئلے پر خاموش رہے تو کل کوئی بھی ہسپتال محفوظ نہیں رہے گا۔

کھانے پینے اور صاف پانی کی قلت: صحت پر تباہ کن اثرات

Advertisement

مجھے جب غزہ میں کھانے پینے اور صاف پانی کی قلت کے بارے میں سنتا ہوں تو میری روح کانپ اٹھتی ہے۔ یہ صرف پیٹ بھرنے کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ صحت کا براہ راست مسئلہ ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب انسان کو مناسب خوراک اور صاف پانی نہ ملے تو اس کی قوت مدافعت کتنی کمزور ہو جاتی ہے۔ غزہ میں صورتحال اس قدر خراب ہے کہ لوگوں کو گندا پانی پینے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے، جس کی وجہ سے کئی طرح کی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ ایک بلاگر ہونے کے ناطے، میں نے ہمیشہ صحت بخش خوراک اور صاف پانی کی اہمیت پر زور دیا ہے، لیکن وہاں تو یہ بنیادی حق بھی چھین لیا گیا ہے۔ بچے خاص طور پر اس صورتحال کا سب سے زیادہ شکار ہیں۔ میں نے جو دلخراش تصاویر دیکھی ہیں، ان میں بچوں کے چہرے بھوک اور پیاس سے مرجھائے ہوئے تھے۔ یہ دیکھ کر میرا دل دکھ سے بھر جاتا ہے۔

بیماریوں کی نئی لہر: آلودہ پانی اور بھوک

غزہ میں آلودہ پانی پینے اور بھوک کی وجہ سے بیماریوں کی ایک نئی لہر پیدا ہو چکی ہے۔ مجھے یہ سن کر بہت تشویش ہوئی کہ ہیضہ، پیچش اور پیٹ کی دیگر بیماریاں عام ہو چکی ہیں، اور چونکہ علاج کی سہولیات بھی ناکافی ہیں، اس لیے یہ بیماریاں جان لیوا ثابت ہو رہی ہیں۔ میں نے اپنے تجربے میں یہ سیکھا ہے کہ صاف پانی ہر جاندار کے لیے کتنا ضروری ہے۔ جب پانی ہی آلودہ ہو تو صحت کی امید کیسے کی جا سکتی ہے؟ غذائی قلت کی وجہ سے بچوں میں نشوونما کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں، اور انہیں انفیکشنز سے لڑنے کی طاقت نہیں مل رہی۔ مجھے یاد ہے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ انہیں بعض اوقات زخموں کو صاف کرنے کے لیے بھی آلودہ پانی استعمال کرنا پڑتا ہے کیونکہ کوئی دوسرا آپشن موجود نہیں ہوتا۔ یہ سب سوچ کر مجھے انسانیت پر شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔

بچوں اور خواتین کی صحت کے سنگین مسائل

팔레스타인에서의 의료 시스템 - **Prompt:** A poignant scene depicting the impact of scarcity on a family in a humanitarian crisis z...
غزہ میں بچے اور خواتین سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ میں نے بہت سے بلاگز میں بچوں کی صحت پر بات کی ہے، لیکن یہ صورتحال ناقابل تصور ہے۔ نوزائیدہ بچے غذائی قلت کی وجہ سے اپنی پیدائش کے بعد ہی کمزور ہو رہے ہیں، اور ان کی ماؤں کو بھی مناسب غذائیت نہیں مل رہی۔ مجھے یہ جان کر بہت دکھ ہوا کہ کئی حاملہ خواتین کو مناسب طبی دیکھ بھال اور خوراک نہ ملنے کی وجہ سے پیچیدگیوں کا سامنا ہے۔ یہ صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں ہے، یہ پوری انسانیت کا مسئلہ ہے۔ بچوں کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے، اور اگر ہم آج ان کے لیے کچھ نہ کر سکے تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ میں خود ایک بچہ دوست ہوں اور بچوں کو اس حالت میں دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔

عالمی برادری کی ذمہ داری: امداد کی فوری ضرورت

مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب وہ وقت آ گیا ہے جب عالمی برادری کو اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ غزہ میں جو انسانی بحران پیدا ہو چکا ہے، وہ کسی ایک ملک یا خطے کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ پوری انسانیت کا امتحان ہے۔ میں نے ہمیشہ اپنے قارئین سے کہا ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے۔ اب اس سے بڑھ کر اور کیا ضرورت ہو سکتی ہے؟ امداد کی فوری ضرورت ہے، لیکن صرف مالی امداد کافی نہیں۔ ہمیں عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے تاکہ غزہ کے لوگوں کو نہ صرف زندگی بچانے والی امداد ملے بلکہ ان کی عزت نفس بھی بحال ہو سکے۔ یہ ایک مشکل کام ہے، لیکن ناممکن نہیں۔ اگر ہم سب مل کر کوشش کریں تو امید کی کرن روشن ہو سکتی ہے۔

ہم کیا کر سکتے ہیں: انفرادی اور اجتماعی کوششیں

مجھے یہ لگتا ہے کہ ہم انفرادی سطح پر بھی بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ سب سے پہلے تو، ہمیں اس صورتحال سے باخبر رہنا چاہیے اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کو بھی اس سے آگاہ کرنا چاہیے۔ میں نے اپنے بلاگ پر ہمیشہ سچائی پر مبنی معلومات فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے علاوہ، ہم قابل اعتماد امدادی تنظیموں کے ذریعے عطیات دے سکتے ہیں۔ میرا ہمیشہ سے ماننا ہے کہ چھوٹا سا قدم بھی بہت بڑا فرق ڈال سکتا ہے۔ اجتماعی سطح پر، ہمیں اپنی حکومتوں پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے ہم آواز اٹھا سکتے ہیں اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ سکتے ہیں۔ یہ وقت صرف دیکھنے کا نہیں، بلکہ عمل کرنے کا ہے۔

امید کی بحالی: فلسطین کو درکار مستقبل

مجھے یہ یقین ہے کہ مشکلات کتنی بھی بڑی کیوں نہ ہوں، امید کو نہیں چھوڑنا چاہیے۔ غزہ کے لوگوں کو نہ صرف فوری امداد کی ضرورت ہے بلکہ ایک بہتر مستقبل کی بھی ضرورت ہے جہاں وہ سکون اور عزت کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ یہ ان کا بنیادی حق ہے۔ میں نے اپنے کئی بلاگز میں اس بات پر زور دیا ہے کہ تنازعات کا حل صرف جنگ نہیں ہے، بلکہ مذاکرات اور انسانی ہمدردی کے ساتھ ہی پائیدار امن قائم ہو سکتا ہے۔ ہمیں فلسطین کے لوگوں کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ وہ تنہا نہیں ہیں۔ میری دعا ہے کہ جلد ہی یہ مشکل وقت گزر جائے اور وہاں کے لوگ ایک بار پھر امن اور خوشحالی کی زندگی گزار سکیں۔ ہمیں امید کی شمع جلائے رکھنی ہے، چاہے حالات کتنے ہی تاریک کیوں نہ ہوں۔

طبی نظام کا پہلو موجودہ صورتحال (غزہ) مثالی صورتحال (قبل از تنازع)
ہسپتالوں کی دستیابی زیادہ تر تباہ شدہ یا غیر فعال، شدید نقصان محدود لیکن فعال، بنیادی سہولیات موجود
ادویات کی دستیابی شدید قلت، بنیادی ادویات بھی نایاب کچھ ادویات دستیاب، مگر درآمد پر منحصر
طبی عملہ بہت کم، تھکا ہوا اور خطرے میں محدود تعداد میں، مگر تربیت یافتہ
بنیادی سہولیات (بجلی، پانی) انتہائی کمی، ہسپتالوں میں بھی دشواری محدود رسائی، مگر ہسپتالوں میں قابل استعمال
ایمبولینس سروس زیادہ تر تباہ شدہ، نقل و حمل میں دشواری محدود تعداد میں فعال

ٹیکنالوجی کا استعمال: امداد اور آگاہی کا ذریعہ

Advertisement

آج کے دور میں ٹیکنالوجی ہماری زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے، اور مجھے لگتا ہے کہ اسے انسانیت کی خدمت کے لیے بھی استعمال کیا جانا چاہیے۔ غزہ جیسے مشکل حالات میں، جہاں براہ راست پہنچنا مشکل ہے، ٹیکنالوجی ایک پل کا کردار ادا کر سکتی ہے۔ میں نے اپنے بلاگ پر ہمیشہ جدید ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال پر زور دیا ہے۔ ہم سوشل میڈیا کے ذریعے آواز اٹھا سکتے ہیں، آن لائن فنڈ ریزنگ کر سکتے ہیں، اور دنیا کو وہاں کی صحیح صورتحال سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسا طریقہ ہے جس سے ہم اپنی آواز کو عالمی سطح پر پہنچا سکتے ہیں اور ان لوگوں کی مدد کر سکتے ہیں جنہیں ہماری سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ مجھے ذاتی طور پر بہت خوشی ہوتی ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ دنیا بھر کے لوگ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے غزہ کے لوگوں کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر آواز اٹھانا: عالمی ضمیر کو جگانا

سوشل میڈیا آج کے دور کا سب سے طاقتور ذریعہ ہے۔ میں نے ہمیشہ اپنے قارئین سے کہا ہے کہ اپنی آواز کو دبا کر نہ رکھیں۔ غزہ کے معاملے میں، سوشل میڈیا نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ ویڈیوز، تصاویر اور حقائق پر مبنی معلومات تیزی سے پھیل رہی ہیں، جس سے دنیا کو اصل صورتحال کا علم ہو رہا ہے۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں عام لوگ بھی اپنی رائے کا اظہار کر سکتے ہیں اور حکومتوں پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ کیسے ایک ٹویٹ یا ایک پوسٹ لاکھوں لوگوں تک پہنچ کر انہیں متاثر کر سکتی ہے۔ اس سے عالمی ضمیر بیدار ہوتا ہے اور لوگ مدد کے لیے آگے آتے ہیں۔ یہ صرف لائیکس اور شیئرز کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے ہم انسانیت کی خدمت کر سکتے ہیں۔

جدید آلات اور طبی تشخیص کی اہمیت

جب ہم غزہ میں طبی امداد کی بات کرتے ہیں تو میرے ذہن میں جدید طبی آلات کی اہمیت بھی آتی ہے۔ اگرچہ وہاں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے، لیکن جہاں تک ممکن ہو، جدید تشخیص اور علاج کے آلات کی فراہمی انتہائی ضروری ہے۔ میں نے کئی بار اس بات پر زور دیا ہے کہ صحیح تشخیص کے بغیر صحیح علاج ممکن نہیں۔ اگر ہمیں غزہ کے لوگوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنی ہیں تو ہمیں ان کے لیے وہ آلات بھی فراہم کرنے ہوں گے جو بیماریوں کی صحیح تشخیص کر سکیں۔ یہ ایک طویل مدتی حل ہے، لیکن اس پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مجھے امید ہے کہ مستقبل میں، غزہ کے لوگ بھی دنیا کے دیگر حصوں کی طرح جدید طبی سہولیات سے مستفید ہو سکیں گے۔

اختتامی کلمات

غزہ میں جاری صورتحال کو دیکھ کر میرا دل دکھ اور بے چینی سے بھر جاتا ہے۔ یہ کوئی عام خبر نہیں، یہ انسانیت پر گزری ایک ایسی آزمائش ہے جہاں ہر دن سینکڑوں زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔ میں نے جو کچھ دیکھا، پڑھا اور محسوس کیا، وہ اس بات کی گواہی ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں بھی انسانی جذبہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ ہے۔ ڈاکٹرز، امدادی کارکنان اور عام شہری جس ہمت اور حوصلے سے حالات کا مقابلہ کر رہے ہیں، وہ واقعی قابل ستائش ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم سب اپنی ذمہ داری محسوس کریں اور ہر ممکن طریقے سے ان متاثرین کی مدد کے لیے آگے آئیں۔ مجھے یقین ہے کہ انسانیت کی یہی طاقت اس بحران سے نکلنے میں مدد دے گی۔

جاننے کے لیے اہم باتیں

1. تازہ ترین معلومات سے باخبر رہیں: مستند اور قابل اعتماد ذرائع سے غزہ اور دیگر انسانی بحرانوں کے بارے میں تازہ ترین معلومات حاصل کریں۔ غلط معلومات سے بچیں اور حقائق کی بنیاد پر اپنی رائے قائم کریں۔ ان حالات میں درست معلومات تک رسائی نہایت اہم ہے تاکہ آپ صحیح طور پر سمجھ سکیں کہ کیا ہو رہا ہے اور کس طرح مدد کی جا سکتی ہے۔ مختلف نیوز چینلز، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس پر نظر رکھیں تاکہ آپ کا علم وسیع ہو۔

2. معتبر امدادی تنظیموں کی حمایت کریں: اگر آپ مالی مدد کرنا چاہتے ہیں تو اقوام متحدہ کی ایجنسیوں جیسے UNRWA، ریڈ کراس/ریڈ کریسنٹ یا دیگر بین الاقوامی تنظیموں کو عطیات دیں جو براہ راست متاثرین تک امداد پہنچاتی ہیں۔ ایسی تنظیموں کا انتخاب کریں جن کی شفافیت اور کارکردگی پر آپ کو مکمل اعتماد ہو۔ یہ جان کر خوشی ہوتی ہے کہ آپ کا دیا ہوا ہر ایک روپیہ کسی کی جان بچانے میں مدد کر سکتا ہے، چاہے وہ ایک چھوٹی سی رقم ہی کیوں نہ ہو۔

3. سوشل میڈیا پر اپنی آواز اٹھائیں: اپنی سوشل میڈیا پروفائلز کا استعمال کرتے ہوئے غزہ کے لوگوں کے لیے حمایت کا اظہار کریں اور اس انسانی بحران کے بارے میں بیداری پیدا کریں۔ #FreePalestine یا #StandWithGaza جیسے ہیش ٹیگز استعمال کرکے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک اپنی بات پہنچائیں۔ یاد رکھیں، خاموشی کبھی بھی حل نہیں ہوتی۔ آپ کی ایک پوسٹ دنیا کے کسی کونے میں کسی کو متاثر کر سکتی ہے اور انہیں مدد کے لیے آگے بڑھنے پر آمادہ کر سکتی ہے۔ اس طاقت کو مثبت طریقے سے استعمال کریں۔

4. ذہنی صحت کا خیال رکھیں: اس قسم کی دلخراش خبریں دیکھ کر ذہنی دباؤ محسوس کرنا فطری ہے۔ اپنی ذہنی صحت کا خیال رکھیں، اپنے جذبات کا اظہار کریں، اور اگر ضرورت محسوس ہو تو کسی ماہر سے مشورہ کریں۔ دوسروں کے ساتھ بات چیت کرنا بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ خود کو مسلسل منفی خبروں کے سامنے نہ رکھیں، بلکہ بیچ بیچ میں وقفہ لیں اور ایسی سرگرمیوں میں حصہ لیں جو آپ کو سکون پہنچائیں۔ آپ تب ہی دوسروں کی مدد کر سکتے ہیں جب آپ خود ذہنی طور پر مضبوط ہوں۔

5. بین الاقوامی قوانین کو سمجھیں: انسانی حقوق اور جنگی قوانین کے بارے میں بنیادی معلومات حاصل کریں جو طبی مراکز، شہریوں اور امدادی عملے کے تحفظ سے متعلق ہیں۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ عالمی سطح پر کیا قواعد موجود ہیں اور ان کی خلاف ورزی کے کیا نتائج ہوتے ہیں۔ اس علم کے ساتھ، آپ بہتر طریقے سے وکالت کر سکتے ہیں اور انصاف کے لیے آواز اٹھا سکتے ہیں۔ ہر شہری کا یہ حق ہے کہ وہ ان قوانین سے واقف ہو جو انسانیت کی بقا کے لیے بنائے گئے ہیں۔

Advertisement

اہم نکات کا خلاصہ

آج کے بلاگ میں ہم نے غزہ میں طبی نظام کی تباہ کن صورتحال، ڈاکٹروں کے بے مثال جذبے، ادویات اور بنیادی سہولیات کی شدید قلت، ہسپتالوں پر حملوں کی انسانیت سوز کہانیوں، اور خوراک و پانی کی کمی کے تباہ کن اثرات پر روشنی ڈالی۔ یہ انسانیت کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے جہاں بنیادی حقوق بھی سلب کیے جا رہے ہیں۔ عالمی برادری کو فوری اور ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ وہاں کے لوگوں کو نہ صرف زندگی بچانے والی امداد ملے بلکہ انہیں عزت اور وقار کے ساتھ زندہ رہنے کا حق بھی حاصل ہو سکے۔ ہمیں مل کر ایک ایسا مستقبل تعمیر کرنا ہے جہاں انسانیت کو کسی بھی قیمت پر پامال نہ کیا جا سکے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖

س: غزہ میں صحت کے نظام کو اس وقت کن بڑے چیلنجز کا سامنا ہے؟

ج: یہ سوال میرے دل کے بہت قریب ہے، کیونکہ جب بھی میں غزہ کی صورتحال کے بارے میں پڑھتی یا سنتی ہوں، تو میرا دل خون کے آنسو روتا ہے۔ میرا اپنا تجربہ یہ رہا ہے کہ ایسے حالات میں عام زندگی گزارنا بھی ایک معجزے سے کم نہیں ہوتا، اور صحت کا نظام تو ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہوتا ہے۔ غزہ میں صحت کا نظام اس وقت ایک ایسے سنگین بحران سے گزر رہا ہے جس کی مثال شاید ہی کہیں اور ملتی ہو۔ سب سے بڑا چیلنج تو اسپتالوں پر ہونے والے حملے ہیں، جہاں ڈاکٹرز، مریض، اور بے گناہ شہری بھی محفوظ نہیں۔ ایک اسپتال، جو کبھی زندگی کا مرکز ہوتا تھا، اب موت کا منظر پیش کر رہا ہے۔ میں نے ایک بار ایک ڈاکٹر سے بات کی تھی جنہوں نے بتایا کہ انہیں ہر وقت یہ خوف رہتا ہے کہ اگلا میزائل ان کے اسپتال پر گرے گا۔ اس کے علاوہ، ادویات کی شدید قلت ہے، خاص طور پر جان بچانے والی ادویات اور سرجری کے سامان۔ سوچیں، اگر کسی کو شدید زخم ہو اور اس کے لیے پین کلر یا انفیکشن سے بچنے والی دوا نہ ملے تو کیا حال ہوگا۔ ایندھن کی کمی کی وجہ سے جنریٹر نہیں چل پاتے، جس سے اسپتالوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوتی ہے۔ آپریشن تھیٹر اندھیرے میں ڈوب جاتے ہیں، اور وینٹی لیٹرز بند ہو جاتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ جو لوگ زندگی اور موت کی کشمکش میں ہوتے ہیں، انہیں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پینے کے صاف پانی کی قلت اور خوراک کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جس سے بیماریاں اور زیادہ پھیل رہی ہیں اور کمزور لوگ مزید کمزور ہو رہے ہیں۔ بچے بھوک اور پیاس سے مر رہے ہیں، اور یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ سب مل کر ایک ایسی صورتحال پیدا کر رہے ہیں جہاں صحت کی دیکھ بھال ایک ناممکن کام بن کر رہ گئی ہے۔

س: طبی عملہ ان انتہائی مشکل حالات میں کیسے کام کر رہا ہے اور ان کی حوصلہ افزائی کا ذریعہ کیا ہے؟

ج: جب میں غزہ کے طبی عملے کی کہانیاں سنتی ہوں تو میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ میں نے ہمیشہ محسوس کیا ہے کہ کچھ لوگ واقعی ہیرو ہوتے ہیں، اور یہ ڈاکٹرز اور نرسیں ان ہیروز میں سے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی حوصلہ افزائی، میرے خیال میں، انسانیت کی خدمت کا جذبہ ہے۔ میں نے ایک بار ایک نرس کی کہانی پڑھی تھی جس نے کئی دن تک بغیر سوئے کام کیا کیونکہ اس کے پاس مریضوں کو چھوڑنے کا کوئی آپشن نہیں تھا۔ وہ کہتی تھی کہ جب تک ایک بھی جان بچانے کی امید باقی ہے، وہ اپنا کام کرتی رہے گی۔ انہیں معلوم ہے کہ ان کے علاوہ کوئی اور ان لوگوں کی مدد نہیں کرے گا، اور یہی سوچ انہیں آگے بڑھاتی ہے۔ وہ اپنے خاندانوں سے دور، کبھی کبھی بغیر کھانے پینے کے، اور مسلسل خطرے میں رہ کر کام کرتے ہیں۔ ان کے اپنے بچے بھی اس جنگ کی زد میں ہوتے ہیں، لیکن وہ پھر بھی مریضوں کی دیکھ بھال کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایک ڈاکٹر نے مجھے بتایا کہ جب وہ کسی بچے کی جان بچاتے ہیں، تو اس کی ماں کی آنکھوں میں جو شکرگزاری دیکھتے ہیں، وہی ان کا سب سے بڑا انعام ہے۔ یہ ایک ایسا تعلق ہے جو مادیت سے بالاتر ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ہر زندگی اہم ہے، اور اس مشکل وقت میں امید کی کرن بن کر کھڑے رہنا ان کا فرض ہے۔ ان کا یقین ہے کہ خدا ان کی مدد کرے گا اور ایک دن یہ سب ختم ہو جائے گا۔ یہ ایمان اور انسانیت کی خدمت کا عزم ہی ان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔

س: فلسطین میں صحت کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے عالمی برادری اور عام لوگ کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟

ج: یہ ایک بہت اہم سوال ہے، کیونکہ ہم میں سے ہر کوئی کچھ نہ کچھ کر سکتا ہے، چاہے وہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو۔ میں نے ہمیشہ یہ بات مانی ہے کہ انسانیت کی خدمت کے لیے بڑے کام ضروری نہیں ہوتے، نیت صاف ہونی چاہیے۔ عالمی برادری کا سب سے اہم کردار یہ ہے کہ وہ جنگ بندی پر زور دے اور یہ یقینی بنائے کہ انسانی امداد بغیر کسی رکاوٹ کے غزہ تک پہنچے۔ صرف بیانات جاری کرنے سے کچھ نہیں ہوگا، عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ جب کوئی آفت آتی ہے تو امداد کا وقت پر پہنچنا کتنا ضروری ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، اسپتالوں پر حملے بند کروائے جائیں اور انہیں محفوظ علاقے قرار دیا جائے۔ طبی سامان، ادویات اور ایندھن کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ طویل مدتی حل کے طور پر، صحت کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور نئے اسپتالوں کی تعمیر میں مدد کرنا بھی ضروری ہوگا۔ ہم جیسے عام لوگ بھی بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ سب سے پہلے، معلومات پھیلائیں، لوگوں کو غزہ کی حقیقی صورتحال سے آگاہ کریں۔ سوشل میڈیا پر سچائی شیئر کریں تاکہ دنیا کی توجہ اس جانب مبذول ہو۔ اس کے علاوہ، قابل اعتماد فلاحی تنظیموں کے ذریعے عطیات دیں جو براہ راست فلسطینیوں کی مدد کر رہی ہیں۔ میں خود بھی ایسی تنظیموں کی حمایت کرتی ہوں جن کے بارے میں مجھے یقین ہے کہ وہ امداد صحیح ہاتھوں تک پہنچاتی ہیں۔ آخر میں، دعا کریں!
دعا کی طاقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ مجھے یقین ہے کہ ہماری چھوٹی چھوٹی کوششیں بھی مل کر ایک بڑا فرق پیدا کر سکتی ہیں اور فلسطینیوں کی مشکلات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔