فلسطین میں کام کرنے والی اہم این جی اوز اور ان کی سرگرمیاں: آپ کو کیا جاننا چاہیے؟

webmaster

팔레스타인의 주요 NGO와 활동 - **Prompt: A dedicated female doctor, wearing a modest head covering and a clean medical uniform, gen...

فلسطین، خاص طور پر غزہ، آج کل ایک ایسا درد بھرا باب ہے جسے پڑھ کر میرا دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ وہاں کے معصوم لوگوں، بچوں، اور خواتین کی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔ ہسپتال تباہ ہو چکے ہیں، کھانے پینے کی قلت ہے، اور سر پر چھت کا سایہ بھی چھن گیا ہے۔ ایسے میں یہ سوچ کر تسلی ملتی ہے کہ کچھ لوگ اور تنظیمیں ایسے بھی ہیں جو انسانیت کے علمبردار بن کر ہر مشکل گھڑی میں وہاں کے باسیوں کا سہارا بنے ہوئے ہیں۔ میں نے خود ان کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور مجھے احساس ہوا کہ یہ صرف امداد نہیں پہنچاتے، بلکہ امید کا دیا بھی روشن کرتے ہیں۔یہ این جی اوز، جنہیں ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں، نہ صرف طبی امداد، خوراک اور پناہ فراہم کر رہی ہیں بلکہ بچوں کو جنگ کے خوفناک اثرات سے نکالنے کے لیے ذہنی اور نفسیاتی مدد بھی دے رہی ہیں۔ شدید سردی کے اس موسم میں جب بے گھر خاندانوں کے لیے ہر لمحہ ایک امتحان بن چکا ہے، ان تنظیموں کی سرگرمیاں اور بھی اہم ہو گئی ہیں۔ ان کا کام صرف مالی امداد اکٹھی کرنا نہیں، بلکہ عملی طور پر ہر خطرے کو مول لے کر میدان میں رہنا ہے۔ یہ لوگ ایک نئی صبح کی امید جگا رہے ہیں۔ آئیے، آج ہم انہی بے مثال تنظیموں اور ان کی خدمات کے بارے میں مزید تفصیل سے جانتے ہیں۔

팔레스타인의 주요 NGO와 활동 관련 이미지 1

غزہ میں زندگی بچانے والی طبی امداد کا پھیلاؤ

ہم سب جانتے ہیں کہ غزہ کی پٹی میں صحت کا نظام کس قدر بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ہسپتال یا تو تباہ ہو چکے ہیں یا پھر اتنی بری حالت میں ہیں کہ مریضوں کا علاج ممکن ہی نہیں۔ اس مشکل گھڑی میں کئی این جی اوز مسیحا بن کر سامنے آئی ہیں جو نہ صرف طبی امداد پہنچا رہی ہیں بلکہ زخمیوں اور بیماروں کی جان بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت تسلی ہوتی ہے کہ جب حالات بہت خراب ہو جاتے ہیں تو انسانیت کا جذبہ اور مضبوط ہو جاتا ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ کیسے ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز (Doctors Without Borders) جیسی تنظیمیں غزہ کے ہسپتالوں میں سرجیکل دیکھ بھال، زخموں کا علاج اور جلنے والوں کی دیکھ بھال کر رہی ہیں۔ وہ بچوں اور ماؤں کی صحت کا خیال رکھ رہی ہیں، غذائی قلت کا شکار بچوں کی اسکریننگ اور علاج کر رہی ہیں اور یہاں تک کہ نفسیاتی مدد بھی فراہم کر رہی ہیں۔ یہ سب کچھ ایسے حالات میں ہو رہا ہے جہاں سامان کی شدید قلت ہے اور خود طبی عملے کو حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سوچیں، ایک ڈاکٹر کس عزم کے ساتھ کام کرتا ہوگا جب اسے ہر طرف تباہی نظر آئے۔

ہسپتالوں کی بحالی اور موبائل کلینکس

جیسے میں نے اوپر ذکر کیا، طبی امداد کی فراہمی غزہ میں ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ مجھے یہ سن کر بہت دکھ ہوتا ہے کہ علاقے کے آدھے سے زیادہ ہسپتال اب فعال نہیں رہے۔ جو تھوڑے بہت کام کر رہے ہیں، ان میں بھی ایندھن اور بنیادی سہولیات کی شدید کمی ہے۔ اس کے باوجود، فلسطین ریڈ کریسنٹ سوسائٹی (PRCS) جیسے مقامی ادارے غزہ میں ہسپتال چلا رہے ہیں اور زخمی فلسطینیوں کو زندگی بخش علاج فراہم کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ CARE جیسی بین الاقوامی تنظیمیں موبائل کلینکس کی مدد سے بنیادی صحت کی دیکھ بھال کی خدمات، تولیدی صحت اور نفسیاتی مدد بھی فراہم کر رہی ہیں۔ یہ موبائل کلینکس ان علاقوں تک پہنچتے ہیں جہاں تک ہسپتالوں کی رسائی ممکن نہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک رضاکار نے بتایا تھا کہ کیسے ان موبائل کلینکس نے کئی دور دراز خاندانوں کی جان بچائی۔ وہ لوگ جو نقل و حرکت نہیں کر سکتے یا جن کے علاقے میں ہسپتال نہیں بچا، ان کے لیے یہ موبائل کلینکس کسی نعمت سے کم نہیں۔

دواؤں کی فراہمی اور جانی بچاؤ کی کوششیں

غزہ میں دواؤں کی قلت ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ میں نے سنا ہے کہ عالمی ادارہ صحت (WHO) کی ٹیموں کو مریضوں کو غزہ سے باہر منتقل کرنے میں بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ لیکن Medical Aid for Palestinians (MAP) اور Glia جیسی تنظیمیں نہ صرف ادویات اور طبی سامان کی فراہمی کو یقینی بنا رہی ہیں بلکہ طبی وفود بھی غزہ بھیج رہی ہیں۔ وہ ہسپتالوں کے قریب عارضی طبی خیمے بھی لگا رہی ہیں تاکہ موجودہ ہسپتالوں پر بوجھ کم ہو سکے۔ یہ دیکھ کر میرا دل بھر آتا ہے کہ کیسے یہ لوگ اپنی جان خطرے میں ڈال کر انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں۔ میں نے ایک ویڈیو دیکھی تھی جہاں ایک رضاکار ایمرجنسی میں دوا لے کر ایک زخمی بچے کی طرف بھاگ رہا تھا، اس کی آنکھوں میں تھکن تھی لیکن چہرے پر ایک عزم تھا۔

بچوں کی مسکراہٹیں بحال کرنے کی جدوجہد

Advertisement

غزہ میں بچوں پر جنگ کے اثرات ناقابل بیان ہیں۔ مجھے جب بھی ان کی تصویریں دیکھنے کو ملتی ہیں، میرا دل کٹ کے رہ جاتا ہے۔ ان معصوموں نے اپنی چھوٹی سی عمر میں جو کچھ دیکھا ہے، اس کا اثر ان کی پوری زندگی پر پڑے گا۔ لیکن خوش قسمتی سے، کچھ تنظیمیں ان بچوں کی کھوئی ہوئی مسکراہٹیں واپس لانے کے لیے دن رات کام کر رہی ہیں۔ وہ صرف جسمانی امداد ہی نہیں دے رہیں بلکہ ان کے ذہنی اور نفسیاتی زخموں کو بھرنے کی بھی کوشش کر رہی ہیں۔ میرے نزدیک یہ کام سب سے زیادہ اہم ہے، کیونکہ اگر آج کے بچے مایوس ہو گئے تو کل کا مستقبل کیا ہوگا؟ Save the Children، فلسطین چلڈرن ریلیف فنڈ (PCRF) اور War Child جیسی تنظیمیں بچوں کے لیے تحفظ، تعلیم اور ہنگامی امداد فراہم کر رہی ہیں۔ وہ ان بچوں کو ذہنی صحت کی مدد اور سماجی سرگرمیاں فراہم کر رہی ہیں تاکہ انہیں جنگ کے خوفناک اثرات سے نکالا جا سکے۔

تعلیمی سہولیات اور محفوظ کھیل کے میدان

جنگ نے غزہ میں تعلیمی ڈھانچے کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ سکول تباہ ہو چکے ہیں اور بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ میں نے ایک رپورٹ میں پڑھا تھا کہ غزہ کی پٹی میں نصف آبادی کی عمر 15 سال سے کم ہے۔ ایسے میں تعلیم کی فراہمی مستقبل کی ضمانت ہے۔ Save the Children اور War Child جیسی تنظیمیں عارضی تعلیمی مراکز قائم کر رہی ہیں اور بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ نفسیاتی معاونت بھی دے رہی ہیں۔ مجھے ایک استاد کی کہانی یاد ہے جو ایک عارضی کیمپ میں بچوں کو عربی اور انگریزی پڑھا رہا تھا تاکہ انہیں دنیا میں سنا جا سکے۔ اس کے علاوہ، بلوم چیریٹی جیسی تنظیمیں بچوں کو کھیل کے میدان اور آرٹ تھراپی کے مواقع فراہم کر رہی ہیں تاکہ انہیں جنگ کے صدمے سے نکالا جا سکے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ ایک ایسا ذریعہ ہے جو بچوں کو پھر سے بچہ بننے کا موقع دیتا ہے۔

نفسیاتی مدد اور صدمے سے نجات

جنگ کے خوفناک مناظر، پیاروں کا بچھڑنا اور مسلسل خوف بچوں کے ذہنوں پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ انہیں اس صدمے سے نکالنے کے لیے فوری نفسیاتی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں اور ان کے شراکت داروں نے نومبر کے آخر میں ہزاروں بچوں کو نفسیاتی معاونت اور ذہنی صحت کی خدمات فراہم کیں، جس میں 160 اجتماعی سرگرمیوں کے لیے خیمے بھی تقسیم کیے گئے۔ World Vision اور Anera جیسی تنظیمیں بچوں کے لیے محفوظ جگہیں بنا رہی ہیں جہاں وہ ایک دوسرے کا ساتھ دے سکیں اور نفسیاتی خدمات حاصل کر سکیں۔ میں سوچتی ہوں کہ یہ کتنا مشکل کام ہے کہ ایک بچے کو دوبارہ اعتماد اور امید دلائی جائے، لیکن یہ تنظیمیں یہ کر رہی ہیں۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو وقت طلب ہے مگر بے حد ضروری۔

بنیادی ضروریات کی فراہمی: خوراک، پانی اور پناہ گاہ

غزہ میں خوراک، صاف پانی اور پناہ گاہ کی شدید قلت ہے۔ لوگوں کو زندگی گزارنے کے لیے بنیادی ضروریات بھی میسر نہیں۔ مجھے ذاتی طور پر بہت دکھ ہوتا ہے جب میں یہ سنتی ہوں کہ لوگ پینے کے صاف پانی اور کھانے کے لیے ترس رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کی تقریباً پوری آبادی اب امداد پر منحصر ہے۔ اس صورتحال میں، کئی تنظیمیں دن رات کام کر کے یہ ضروریات پوری کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ میری نظر میں، یہ صرف خوراک یا پانی نہیں، بلکہ لوگوں کے لیے عزت اور امید کی فراہمی ہے۔ ہر ایک روٹی کا ٹکڑا اور پانی کا گھونٹ ان کے لیے زندگی کی علامت ہے۔

خوراک اور غذائی تحفظ

غزہ میں لاکھوں لوگ شدید بھوک کا سامنا کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق، 132,000 سے زیادہ بچے شدید غذائی قلت کے خطرے سے دوچار ہیں۔ Alkhidmat Foundation Pakistan، UNRWA اور Oxfam International جیسی تنظیمیں خوراک کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ Alkhidmat Foundation پاکستان نے اکتوبر 2023 سے غزہ میں غذائی مدد فراہم کی ہے، خشک راشن اور تیار شدہ کھانا گھر گھر پہنچایا ہے۔ انہوں نے عید الاضحیٰ 2024 پر غزہ میں قربانی کے جانور بھی قربان کیے اور ٹن پیک گوشت بھجوایا تاکہ ضرورت مندوں کو غذائیت مل سکے۔ یہ واقعی ایک انسانیت کا درس ہے۔ میں نے سنا تھا کہ ایک خاندان کو کئی دنوں بعد پہلی بار بھر پیٹ کھانا ملا، اور ان کے چہروں پر جو سکون تھا وہ کسی بھی تعریف سے بالا ہے۔

پانی اور صفائی ستھرائی کی سہولیات

صاف پانی تک رسائی غزہ میں ایک سنگین بحران ہے۔ پانی کے نیٹ ورک تباہ ہو چکے ہیں اور بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ Oxfam International، CARE اور Anera جیسی تنظیمیں صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنا رہی ہیں اور پانی کے خراب شدہ نظام کو ٹھیک کر رہی ہیں۔ CARE نے ہنگامی بیت الخلا نصب کیے ہیں اور مناسب حفظان صحت کے طریقوں کے بارے میں آگاہی بھی فراہم کی ہے۔ مجھے ایک رضاکار کی بات یاد ہے جس نے بتایا کہ کیسے پانی کی ایک چھوٹی سی بوتل بھی وہاں سونے کے برابر ہے۔ ان کی کوششیں نہ صرف پیاس بجھاتی ہیں بلکہ بیماریوں سے بھی بچاتی ہیں۔

عارضی پناہ گاہیں اور گرمی کا سامان

ہزاروں خاندان اپنے گھر بار چھوڑ کر بے گھر ہو چکے ہیں اور شدید سردی کا سامنا کر رہے ہیں۔ International Rescue Committee (IRC) اور CARE جیسی تنظیمیں بنیادی پناہ گاہوں کا سامان اور سردی سے بچنے کی اشیاء فراہم کر رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے امدادی شراکت داروں نے بے گھر افراد کو جوتے، کپڑے، کمبل اور دیگر بنیادی اشیائے ضرورت بھی فراہم کی ہیں۔ میں نے ایک ماں کو دیکھا تھا جو اپنے بچوں کو سردی سے بچانے کے لیے صرف ایک بوسیدہ کمبل پر انحصار کر رہی تھی۔ ایسی صورتحال میں یہ امداد لوگوں کے لیے زندگی اور موت کا فرق بن جاتی ہے۔

سردی کی شدت اور بے گھر افراد کا چیلنج

Advertisement

جب میں سردی کے موسم کا سوچتی ہوں تو میرا ذہن فوراً غزہ کی طرف چلا جاتا ہے۔ وہاں کے لوگوں کے پاس نہ تو مناسب پناہ ہے اور نہ ہی گرم کپڑے۔ یہ سوچ کر ہی روح کانپ جاتی ہے کہ بچے اور بزرگ اس شدید سردی میں کیسے اپنا وقت گزارتے ہوں گے۔ مجھے یاد ہے کہ گزشتہ ہفتے کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ نومبر کے آخر میں ہزاروں بچوں کو نفسیاتی معاونت اور ذہنی صحت کی خدمات مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ 160 اجتماعی سرگرمیوں کے لیے خیمے بھی تقسیم کیے گئے تھے۔ یہ خیمے صرف پناہ گاہ ہی نہیں بلکہ امید کا ایک ذریعہ بھی ہیں۔ مجھے ایک ایسی خاتون کی کہانی کا پتہ چلا جس کا گھر مکمل طور پر تباہ ہو چکا تھا اور وہ اپنے بچوں کے ساتھ ایک چھوٹے سے خیمے میں رہ رہی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ “یہ خیمہ ہمارے لیے دنیا ہے، کم از کم یہ ہمیں سردی اور بارش سے بچاتا ہے۔” اس ایک جملے میں کتنا درد اور شکرگزاری چھپی تھی!

موسم سرما کی ضروریات کی فراہمی

سردیوں میں غزہ کے لیے امدادی سامان کی اشد ضرورت پڑ جاتی ہے۔ اقوام متحدہ اور اس کے امدادی شراکت داروں نے موسم کی سختیوں سے نمٹنے کے لیے شہریوں کو جوتے، کپڑے، کمبل، تولیے اور دیگر بنیادی اشیائے ضرورت فراہم کی ہیں۔ اسلامی ریلیف (Islamic Relief) جیسی تنظیمیں بھی غزہ کے خاندانوں کو ہنگامی خوراک، طبی امداد اور موسم سرما کی ضروری اشیاء فراہم کر رہی ہیں۔ یہ امداد صرف اشیاء نہیں، بلکہ بے گھر افراد کے لیے ایک سہارا ہے، ایک ڈھارس ہے۔ جب ہر کوئی اپنے گھروں میں گرم بستروں میں آرام کر رہا ہوتا ہے، تو یہ لوگ سردی میں کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ان کے لیے ایک رضاکار کا ہاتھ تھامنا اور تھوڑی سی گرمی فراہم کرنا، کسی معجزے سے کم نہیں۔

محفوظ پناہ گاہوں کا قیام

بے گھر ہونے والے افراد کے لیے محفوظ اور مناسب پناہ گاہیں فراہم کرنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو عارضی کیمپوں اور سکولوں میں پناہ لینی پڑی ہے۔ CARE اور International Rescue Committee (IRC) جیسی تنظیمیں نہ صرف بنیادی پناہ گاہ کا سامان فراہم کر رہی ہیں بلکہ انہیں زیادہ بہتر پناہ گاہیں فراہم کرنے کی کوشش بھی کر رہی ہیں۔ مجھے یہ سن کر بہت تکلیف ہوتی ہے کہ بہت سے لوگ میزوں کے نیچے گدوں پر سو رہے ہیں یا برآمدوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ ان تنظیموں کی کوششیں ایسے میں بہت اہمیت اختیار کر جاتی ہیں کیونکہ یہ صرف ایک چھت نہیں بلکہ ایک خاندان کے لیے تھوڑا سا تحفظ اور سکون فراہم کرتی ہے۔ میں نے ایک رضاکار سے بات کی تھی جس نے بتایا کہ کیسے ایک خیمہ لگانا بھی وہاں کے لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ لے آتا ہے۔

ذہنی اور نفسیاتی سہارا: امید کی کرن

میں یہ بات دل سے مانتی ہوں کہ غزہ میں لوگوں کو صرف جسمانی امداد کی ہی ضرورت نہیں، بلکہ انہیں ذہنی اور نفسیاتی سہارے کی بھی اتنی ہی ضرورت ہے۔ جنگ اور تباہی کے مناظر نے ان کے ذہنوں پر گہرے زخم چھوڑے ہیں، خاص طور پر بچوں پر۔ مجھے ذاتی طور پر یہ سب دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے اور میں اکثر سوچتی ہوں کہ یہ بچے جب بڑے ہوں گے تو ان کے ذہنوں پر کیا اثرات ہوں گے؟ لیکن الحمدللہ، کچھ تنظیمیں اس میدان میں بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہیں، جو امید کا ایک نیا دیا روشن کر رہی ہیں۔ ان کا کام صرف مرہم پٹی کرنا نہیں بلکہ ان ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑنا بھی ہے۔

صدمے سے نبردآزما ہونے میں مدد

غزہ میں بہت سے لوگ، خاص طور پر بچے، جنگی صدمے (trauma) سے گزر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے امدادی شراکت دار ہزاروں افراد کو نفسیاتی مدد اور قانونی مشاورت فراہم کر رہے ہیں۔ War Child جیسی تنظیمیں بچوں کو نقصان سے بچانے اور ان کی نفسیاتی فلاح و بہبود کے لیے جامع طریقے استعمال کر رہی ہیں۔ وہ ذہنی صحت، اصلاحی تعلیم اور بچوں کے تحفظ کی خدمات تک رسائی کو بہتر بنا رہی ہیں، خاص طور پر ان نوعمر لڑکیوں کے لیے جو صدمے کا شکار ہوئی ہیں۔ ایک رضاکار نے مجھے بتایا کہ ایک بچہ جو پہلے بالکل خاموش رہتا تھا، اب ڈرائنگ کے ذریعے اپنے احساسات کا اظہار کر رہا ہے۔ یہ چھوٹی چھوٹی کامیابیاں بہت بڑی ہیں۔

کمیونٹی کی بحالی اور تعاون

نفسیاتی مدد صرف انفرادی نہیں ہوتی بلکہ کمیونٹی کی سطح پر بھی ضروری ہے۔ CARE اور World Vision جیسی تنظیمیں مقامی حکومتوں اور کمیونٹی پر مبنی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں تاکہ سول سوسائٹی کو مضبوط کیا جا سکے اور خواتین اور پسماندہ گروہوں کی فیصلہ سازی میں شرکت کو بڑھایا جا سکے۔ یہ تنظیمیں کمیونٹی کے اراکین، خاص طور پر نوجوانوں اور اساتذہ کو با اختیار بنا رہی ہیں تاکہ وہ بچوں کو تشدد اور قبضے کے ماحول میں زندگی گزارنے کی مہارتیں سکھا سکیں۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ لوگ ایک دوسرے کا ساتھ دے کر کس طرح ان مشکلات کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ اس طرح کی کمیونٹی سپورٹ انہیں یہ احساس دلاتی ہے کہ وہ اکیلے نہیں ہیں۔

امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹیں اور انسانی عزم

Advertisement

میں نے محسوس کیا ہے کہ غزہ میں امدادی سرگرمیاں انجام دینا کسی بہت بڑے چیلنج سے کم نہیں۔ یہ صرف مالی وسائل یا افرادی قوت کا مسئلہ نہیں، بلکہ راستے میں آنے والی رکاوٹیں بھی بہت بڑی ہیں۔ مجھے یہ سن کر ہر بار دکھ ہوتا ہے کہ جب امدادی سامان سے بھرے ٹرکوں کو روک دیا جاتا ہے اور لوگ امداد کے لیے ترس رہے ہوتے ہیں۔ یہ انسانیت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ لیکن اس کے باوجود، امدادی کارکنوں کا عزم اور حوصلہ دیدنی ہے۔ وہ ہر مشکل کو عبور کر کے لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی یہ جدوجہد واقعی قابل تعریف ہے۔

نقل و حرکت پر پابندیاں اور رسد کی مشکلات

اسرائیل کی جانب سے غزہ پر عائد پابندیوں نے امدادی اداروں کے لیے رسد کی فراہمی کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے امدادی اداروں کو غزہ میں امداد پہنچانے کے لیے اسرائیلی حکام کی اجازت کا انتظار کرنا پڑتا ہے، اور کئی بار تو امدادی قافلوں کو گھنٹوں روکا جاتا ہے، طبی عملے کی تلاشی لی جاتی ہے اور کچھ کو تو بغیر وجہ کے رہا بھی نہیں کیا جاتا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ شمالی غزہ میں ضروری امداد پہنچانے کی راہ میں اسرائیلی حکام بدستور رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں جہاں خوراک، پانی اور طبی سہولیات کی شدید قلت ہے۔ ایسے حالات میں بھی، ان تنظیموں کے کارکن ہمت نہیں ہارتے اور متبادل راستے تلاش کرتے رہتے ہیں۔

سیاسی رکاوٹیں اور امن کی خواہش

امدادی سرگرمیوں میں صرف فوجی رکاوٹیں ہی نہیں بلکہ سیاسی رکاوٹیں بھی شامل ہیں۔ بعض اوقات امداد کو “پھنسانے” کے لیے استعمال کرنے کے اسرائیلی منصوبے پر اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت صرف جنوبی علاقے میں گنے چنے چند امدادی مراکز قائم کرنے سے لوگ نقل مکانی یا موت میں سے ایک انتخاب پر مجبور ہوں گے۔ یہ سب سن کر میرا دل مزید اداس ہو جاتا ہے، کیونکہ انسانی امداد کو کسی بھی صورت میں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس کے باوجود، عالمی ادارہ صحت (WHO) جیسے ادارے تمام دستیاب سرحدی گزرگاہوں اور راستوں کو کھولنے کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ مریضوں کو علاج تک رسائی مل سکے اور ہنگامی علاج معالجے کے لیے بین الاقوامی طبی ٹیموں کو غزہ تک بلا رکاوٹ رسائی فراہم کی جا سکے۔

مستقبل کی تعمیر: بحالی اور پائیدار حل

팔레스타인의 주요 NGO와 활동 관련 이미지 2
جنگ اور تباہی کے بعد غزہ کو صرف ہنگامی امداد کی نہیں بلکہ طویل مدتی بحالی اور پائیدار حل کی بھی ضرورت ہے۔ یہ ایک ایسا سفر ہے جو شاید کئی سالوں پر محیط ہو گا، لیکن اگر آج سے اس پر کام شروع نہ کیا گیا تو مستقبل مزید تاریک ہو جائے گا۔ مجھے یقین ہے کہ انسانیت کی خدمت کرنے والے یہ ادارے صرف آج کی ضرورت پوری نہیں کر رہے بلکہ کل کے بہتر مستقبل کی بنیاد بھی رکھ رہے ہیں۔ یہ دیکھ کر میرا حوصلہ بڑھتا ہے کہ اتنی مشکلات کے باوجود بھی لوگ امید کا دامن نہیں چھوڑ رہے۔

طویل مدتی منصوبہ بندی اور ترقیاتی منصوبے

کئی تنظیمیں صرف ہنگامی امداد پر ہی توجہ نہیں دے رہی بلکہ طویل مدتی بحالی اور ترقیاتی منصوبوں پر بھی کام کر رہی ہیں۔ CARE جیسی تنظیمیں مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر غربت زدہ، خطرے سے دوچار اور پسماندہ افراد کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ وہ عورتوں کو آمدنی حاصل کرنے کے لیے با اختیار بنا رہی ہیں اور عورتوں کی قیادت کو فروغ دے رہی ہیں۔ یہ ایک بہت اہم قدم ہے کیونکہ جب ایک عورت معاشی طور پر مضبوط ہوتی ہے تو پورا خاندان مضبوط ہوتا ہے۔ مجھے اس بات پر بہت خوشی ہے کہ ان تنظیموں کا وژن صرف آج کا نہیں بلکہ کل کا بھی ہے۔

مقامی کمیونٹیز کو مضبوط بنانا

پائیدار بحالی کے لیے مقامی کمیونٹیز کو مضبوط بنانا بہت ضروری ہے۔ World Vision جیسے ادارے مقامی کمیونٹیز میں اہم ضروریات کی حمایت کر کے انسانی ہمدردی کے بحرانوں کا جواب دے رہے ہیں۔ War Child جیسی تنظیمیں بچوں اور والدین کو پرتشدد ماحول میں زندگی گزارنے کی مہارتیں سکھا رہی ہیں، جس سے ان کی لچک اور پرورش کرنے والے خاندانی ماحول فراہم کرنے کی صلاحیت مضبوط ہوتی ہے۔ یہ سب کچھ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اصل تبدیلی باہر سے نہیں بلکہ اندر سے آنی چاہیے۔ مجھے یہ بات بہت اچھی لگتی ہے کہ کیسے یہ تنظیمیں لوگوں کو صرف مچھلی نہیں دے رہیں بلکہ انہیں مچھلی پکڑنا بھی سکھا رہی ہیں۔

یہ تمام تنظیمیں بے لوث خدمت کا مظاہرہ کر رہی ہیں اور غزہ کے لوگوں کے لیے امید کا پیغام ہیں۔ ان کی کوششوں سے ہزاروں زندگیاں بچ رہی ہیں اور لاکھوں کو روزانہ کی بنیاد پر سہارا مل رہا ہے۔ ہمیں ان کے کام کو سراہنا چاہیے اور ان کی ہر ممکن مدد کرنی چاہیے۔

تنظیم کا نام اہم سرگرمیاں بنیادی توجہ کا علاقہ
فلسطین چلڈرن ریلیف فنڈ (PCRF) مفت طبی دیکھ بھال، غذائی امداد، پانی، ذہنی صحت کی خدمات، یتیم بچوں کی کفالت، بچوں کے کینسر اور کارڈیک ڈیپارٹمنٹس کا قیام۔ بچوں کی صحت اور فلاح و بہبود
ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز (MSF) سرجیکل دیکھ بھال، زخموں اور جلنے کا علاج، غذائی قلت کی اسکریننگ اور علاج، زچہ و بچہ کی دیکھ بھال، نفسیاتی مدد، پانی اور صفائی۔ طبی امداد اور صحت کی دیکھ بھال
CARE بنیادی صحت کی دیکھ بھال، نفسیاتی مدد، پناہ گاہ، خوراک، نقد امداد، حفظان صحت، خواتین اور پسماندہ گروہوں کی مدد۔ صحت، پناہ، خوراک، نفسیاتی مدد
UNRWA بے گھر افراد کے لیے امداد (1948 سے)، تعلیم، صحت کی دیکھ بھال، خوراک، پناہ، ہنگامی ردعمل، نفسیاتی خدمات۔ پناہ گزینوں کی حمایت اور بنیادی خدمات
Save the Children بچوں کا تحفظ، تعلیم، ہنگامی امداد، نفسیاتی صحت، معاشی مواقع، غذائی قلت کا علاج۔ بچوں کا تحفظ اور تعلیم

غزہ کے لیے نیک تمنائیں

Advertisement

میں نے غزہ کی صورتحال پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان تمام تنظیموں اور افراد کی کاوشوں کو سراہا ہے جو اس مشکل وقت میں انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں۔ مجھے امید ہے کہ میرا یہ بلاگ ان کوششوں کو مزید تقویت دے گا اور لوگوں میں غزہ کے بھائیوں اور بہنوں کی مدد کے لیے بیداری پیدا کرے گا۔ یہ سچ ہے کہ مشکلیں بہت ہیں، لیکن انسانی ہمدردی کا جذبہ ہر مشکل سے بڑا ہے اور یہی ہمیں آگے بڑھنے کی طاقت دیتا ہے۔ میں دل سے دعا کرتی ہوں کہ غزہ میں جلد امن قائم ہو اور وہاں کے باسیوں کی زندگیاں دوبارہ معمول پر آ سکیں۔

آپ کے لیے چند اہم تجاویز

1. جب بھی آپ کو موقع ملے، غزہ میں امدادی سرگرمیاں انجام دینے والی تنظیموں کی مالی مدد کریں، آپ کا چھوٹا سا تعاون بھی ہزاروں زندگیاں بچا سکتا ہے۔

2. غزہ کے حالات سے باخبر رہنے کے لیے معتبر ذرائع سے معلومات حاصل کریں اور اپنے دوستوں اور خاندان کے ساتھ شیئر کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس بحران سے آگاہ ہو سکیں۔

3. اگر آپ کسی طبی شعبے سے وابستہ ہیں، تو رضاکارانہ خدمات پیش کرنے کے بارے میں غور کریں، آپ کی مہارت اس وقت بہت قیمتی ثابت ہو سکتی ہے۔

4. غزہ کے بچوں اور خاندانوں کی ذہنی صحت کی بحالی کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی حمایت کریں، کیونکہ جنگ کے نفسیاتی اثرات کو بھی دور کرنا بے حد ضروری ہے۔

5. اپنے اردگرد کے لوگوں میں انسانی ہمدردی کا جذبہ بیدار کریں اور انہیں غزہ کے لوگوں کے لیے دعا کرنے اور عملی اقدامات کرنے کی ترغیب دیں۔

اہم نکات کا خلاصہ

غزہ میں طبی امداد، خوراک، پانی اور پناہ گاہ کی شدید قلت ہے، جس سے لاکھوں افراد متاثر ہیں۔ کئی مقامی اور بین الاقوامی تنظیمیں اپنی جان پر کھیل کر لوگوں کی مدد کر رہی ہیں، جن میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز، فلسطین چلڈرن ریلیف فنڈ، کیئر اور انرو شامل ہیں۔ بچوں کی نفسیاتی اور جسمانی صحت کی بحالی، تعلیم کی فراہمی اور صدمے سے نجات دلانا ترجیحات میں شامل ہیں۔ امدادی سرگرمیوں میں نقل و حرکت پر پابندیاں اور سیاسی رکاوٹیں بہت بڑا چیلنج ہیں، لیکن انسانی عزم ہر مشکل پر غالب آ رہا ہے۔ طویل مدتی بحالی اور پائیدار حل کے لیے مقامی کمیونٹیز کو مضبوط بنانا اور ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد ضروری ہے۔ ہر ایک کی چھوٹی سی کوشش غزہ کے لوگوں کے لیے امید کا ایک نیا سورج بن سکتی ہے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖

س: غزہ میں انسانی امداد کی کن اقسام پر زور دیا جا رہا ہے اور کون سی تنظیمیں یہ کام کر رہی ہیں؟

ج: غزہ میں اس وقت انسانی امداد کی ضرورت اس قدر زیادہ ہے کہ ہر قسم کی مدد کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ میں نے اپنی ریسرچ میں دیکھا کہ سب سے زیادہ زور کھانے پینے کی اشیاء، صاف پانی، طبی امداد اور پناہ گاہوں پر ہے۔ اقوام متحدہ کے امدادی ادارے جیسے UNRWA اور ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) وہاں تازہ روٹی اور خشک راشن پہنچا رہے ہیں تاکہ کوئی بھوکا نہ سوئے۔ ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز (Doctors Without Borders) اور فلسطین ہلال احمر سوسائٹی (Palestine Red Crescent Society) جیسے ادارے زخمیوں کا علاج کر رہے ہیں اور جان بچانے والی ادویات اور طبی سامان فراہم کر رہے ہیں۔ خواتین اور بچوں کے لیے خاص طور پر یونائیٹڈ نیشنز پاپولیشن فنڈ (UNFPA) جیسی تنظیمیں زچہ و بچہ کی صحت پر توجہ دے رہی ہیں اور نفسیاتی مدد بھی فراہم کر رہی ہیں کیونکہ اس خوفناک ماحول میں بچوں کی ذہنی صحت سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔ پاکستان کی الخدمت فاؤنڈیشن بھی ترکی کی تنظیموں کے ساتھ مل کر راشن، ہائیجین کٹس اور سردی سے بچاؤ کے پیکجز بھجوا رہی ہے۔ یہ صرف چند نام ہیں، ورنہ سینکڑوں چھوٹے بڑے ادارے اور بے نام ہیرو وہاں دن رات ایک کر کے مدد فراہم کر رہے ہیں۔ میرا دل کہتا ہے کہ اتنی مشکلات کے باوجود ان لوگوں کا جذبہ دیکھ کر میں خود حیران رہ جاتا ہوں!

س: غزہ میں امدادی تنظیموں کو کن بڑے چیلنجز کا سامنا ہے؟

ج: یارو، غزہ میں امدادی کام کرنا کسی معجزے سے کم نہیں۔ میں نے جو معلومات حاصل کی ہیں، ان کے مطابق سب سے بڑا چیلنج تو امداد کی غزہ میں داخلے پر پابندیاں اور راستہ روکنا ہے۔ اسرائیلی حکام اکثر امدادی ٹرکوں کو اندر جانے سے روک دیتے ہیں، خاص طور پر شمالی غزہ میں جہاں بھوک اپنے عروج پر ہے۔ خود اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے بتایا ہے کہ ان کی بہت سی درخواستیں مسترد کر دی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ، جنگی صورتحال میں امدادی کارکنوں کی جان کو بھی خطرہ ہے؛ UNRWA نے رپورٹ کیا ہے کہ 7 اکتوبر سے اب تک ان کے 12 کارکن شہید ہو چکے ہیں۔ ہسپتال تباہ ہو چکے ہیں، ایندھن کی شدید قلت ہے جس سے بجلی کا نظام ٹھپ پڑا ہے، اور اس سب کے اوپر لاکھوں لوگ بے گھر ہیں جو عارضی خیموں میں یا پھر بیت الخلاؤں جیسی جگہوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ امداد کی یہ محدود مقدار سمندر میں ایک قطرے کے برابر ہے۔ میں نے کئی بار سوچا ہے کہ جب امدادی کارکن اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر وہاں پہنچتے ہیں اور پھر بھی انہیں کام نہیں کرنے دیا جاتا، تو ان پر کیا گزرتی ہوگی!
یہ سب بہت دل دہلا دینے والا ہے۔

س: ہم بطور فرد، غزہ کے بہن بھائیوں کی مدد کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟

ج: دیکھو بھائیو اور بہنو، ہم سب کا یہ فرض ہے کہ اس مشکل گھڑی میں اپنے فلسطینی بہن بھائیوں کا ساتھ دیں۔ سب سے پہلے تو میں کہوں گا کہ دعاؤں کا اہتمام کریں، کیونکہ اللہ کی مدد سے بڑی کوئی طاقت نہیں۔ عملی طور پر، آپ مستند اور قابل اعتماد فلاحی تنظیموں کے ذریعے مالی امداد بھیج سکتے ہیں۔ میری تحقیق کے مطابق، پاکستان میں الخدمت فاؤنڈیشن ایک بڑا نام ہے جو ترکی کے اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے اور پاکستانی کرنسی میں عطیات قبول کرتا ہے۔ آپ ان کی ویب سائٹ پر یا براہ راست ان کے دفتر جا کر عطیات دے سکتے ہیں۔ عالمی سطح پر Palestine Children Relief Fund اور Doctors Without Borders بھی بہترین کام کر رہے ہیں، اگر آپ کے لیے ڈالر میں ادائیگی ممکن ہو۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ صرف مالی امداد تک محدود نہ رہیں۔ سوشل میڈیا پر، اپنے دوستوں اور خاندان کے حلقوں میں، غزہ کی صورتحال کے بارے میں آگاہی پھیلائیں، ان کے حق میں آواز اٹھائیں۔ جب ہم سب مل کر آواز اٹھاتے ہیں، تو اس کا اثر ہوتا ہے اور دنیا مجبور ہوتی ہے کہ کچھ کرے۔ یقین جانو، آپ کا چھوٹا سا ایکشن بھی وہاں کے لوگوں کے لیے امید کی کرن بن سکتا ہے۔ مجھے ذاتی طور پر یہ محسوس ہوتا ہے کہ جب ہم اپنی جگہ پر کچھ کرتے ہیں، تو ہمارے دل کو بھی ایک سکون ملتا ہے کہ ہم نے اپنا حصہ ڈالا۔

Advertisement